ابنا: جنیوا معاہدے پر عمل درآمد نہ صرف ایران کے فائدے میں ہے بلکہ فریقین اور علاقے کے ممالک کے فائدے میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنیوا معاہدے کی مکمل پابندی کرے گا اور یہی توقع مد مقابل سے بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے اتفاق سے اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں موجود تمام مشکلات ختم ہوجائيں گی۔ ایٹمی ادارے کے ترجمان نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کےلئے ہمہ وقت مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نظر میں جس چیز کی اہمیت ہے وہ یہ ہے کہ مغربی ممالک نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کرلیا ہے اور ایران نے کئي برسوں کے بڑے کٹھن مذاکرات کے بعد یہ ہدف حاصل کیا ہے۔ بہروز کمالوندی نے کہا کہ ایران علاقے میں امن و استحکام قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک اسکی پرامن ایٹمی سرگرمیوں پر اطمینان رکھیں۔
.......
/169